Blogroll

header ads

وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے واقعات میں ملوث مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔۔۔.

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔۔۔

گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، تحقیق؟

یک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔

ملالہ یوسف زئی کا بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر انصاف کا مطالبہ

پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر آواز بلند کردی۔۔

پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں بھی کمی کردی گئی

 آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون 2020 کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 2 روپے فی کلو کمی کی گئی ہے جس کے بعد 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 1298.31 روپے ہوگئی۔

چیئرمین ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کے مطابق مئی کیلئے 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 1322.90 روپے تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی تھی۔ 

فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کیوں کر دیا؟

امریکا میں پولیس کی حراست میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر فسادات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ احتجاج میں فیس بک سمیت کئی کمپنیاں بھی شریک ہو گئی ہیں۔

فیس بک نے سیاہ فام شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئی اپنا لوگو سیاہ کر دیا ہے جب کہ کمپنی کے بانی نے اس حوالے سے ایک طویل مضمون بھی تحریر کیا ہے۔

ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں گزشتہ دنوں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں گزشتہ 6 روز سے ہنگامے اور فسادات جاری ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امریکا میں سیاہ فام افراد زندگیوں کو بھی دیگر سفید فام شہریوں کی طرح محفوظ بنایا جائے اور انہیں برابر کے حقوق دیے جائیں۔

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنی طویل پوسٹ میں کہا کہ ’ہم سیاہ فارم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان تمام کے ساتھ بھی جو  انصاف کیلئے کام کر رہے ہیں جارج فلوئیڈ، بریونا ٹیلر،  احمود آربیری اور دیگر افراد کے نام کبھی فراموش نہیں کیے جائیں گے‘۔

مارک زکر برگ نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ  اس لڑائی میں مدد کیلئے  فیس بک پلیٹ فارم کو سیاہ فام لوگوں کی برابری اور تحفظ کیلئے  مزید اقدام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں  شکرگزار ہوں کہ ڈارنیلا فرازیر نے جارج فلوئیڈ کے قتل کی ویڈیو فیس بک پر پوسٹ کی تھی کیونکہ ہم سب کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں جارج فلوئیڈ کا نام جاننے کی ضرورت ہے تاہم یہ واضح ہوگیا ہے کہ فیس بک کو لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے مزید کام کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ہمارا نظام تعصب کو بڑھاوا نہیں دیتا‘۔

فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ ’انصاف کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو فنڈز کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہم ایک کروڑ ڈالر  کی امداد پیش کرتے ہیں‘۔

مارک زکر برگ نے مزید کہا کہ ’میں جانتا ہوں ایک کروڑ ڈالر سب ٹھیک نہیں کرسکتا، انصاف کے لیے طویل عرصے تک کوشش کرنے  کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’وہ اور امریکی اداکارہ پرسکیلا نے مل کر ذاتی طور پر ان علاقوں میں کام کیا ہے جہاں مجرموں کے لیے نظام انصاف میں سب سے زیادہ نسل پرستی پائی گئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اپنے اس کام کے حوالے سے زیادہ بات چیت نہیں کی ہے  لیکن اس میں چن زکر برگ کا کردار اہم رہا ہے جو سالوں سے  انصاف کیلئے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو ہر سال 4 کروڑ ڈالرز  دیتے ہیں تاکہ نسل پرستانہ تعصب اور نسل پرستی کا خاتمہ ہوسکے۔‘

فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کام کو آگے بڑھائیں اور یہ سامنے آگیا ہے کہ ابھی ہمیں بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘۔

لوگو سیاہ ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا پر#blacklivesmatter  بھی ٹرینڈ کر رہا ہے یعنی سیاہ فام کی زندگیاں بھی معنی رکھتی ہیں تاہم اس ہیش ٹیگ کے ذریعے  بھی جارج فلوئیڈ کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

نواز شریف کے پاکستان میں ہونیوالے ٹیسٹ کی تحقیقات کی جائیں، فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف  کے پاکستان میں ہونے والے طبی ٹیسٹوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

فواد چوہدری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی برطانیہ میں سامنے آنے والی حالیہ تصاویر میں ان کی حالت اچھی نظر آرہی ہے۔

اپنے خط میں فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نوازشریف اپنی برطانوی ٹیسٹ رپورٹس بھی حکومت کے ساتھ شیئر نہیں کررہے، اس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ برطانوی لیبارٹریز نے نوازشریف کی بیماری کی تصدیق نہیں کی۔

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی  نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں عدالتوں سے ریلیف لینے کے لیے جعلی ٹیسٹ رپورٹس بنائی گئیں اور  ٹیسٹ رپورٹس میں حقائق مسخ کرکے بیرون ملک جانے کی راہ ہموارکی گئی۔

 انہوں نے سابق وزیراعظم کے  پاکستان میں ہونے والے ٹیسٹ رپورٹس پر انکوائری کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ پاکستان میں کس نے ٹیسٹ رپورٹس میں حقائق کو مسخ کیا اور تحقیقات میں یہ بھی سامنے لایاجائے کہ کس کس نے نوازشریف کو فرار میں مدد کی۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف عدالتوں سے طبی بنیاد پر ضمانت کے بعد  حکومتی اجازت سے 19 نومبر 2019 سے علاج کے لیے لندن میں مقیم ہیں۔

یاد رہے کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انہوں نے شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا گیا کہ نواز شریف کی طبیعت واقعی بہت خراب ہے اس لیے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی ایک بار اجازت دے رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  ہماری کابینہ کے زیادہ تر اراکین نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کی مخالفت کی لیکن میں نے رحم کیا اور کہا کہ جانے دو۔

کورونا کے سبب تجارت مثاثر ہوئی، کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں: اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کورونا کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کی رپورٹ جاری کردی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سبب تجارت مثاثر ہوئی جبکہ عالمی معیشت مثاثر ہونے سے ترسیلات زر اور سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کی کم قیمتوں سے درآمدی ممالک کو فائدہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا کے باعث مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، عوام کی قوت خرید گھٹ گئی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی کم ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاشی سست روی سے محصولات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، وبا کو قابو کرنے کیلئے لاک ڈاؤن کیا گیا جس سے فیکٹروں اور کاروباروی طبقے کا کیش فلو مثاثر ہوا، اگر یہی صورتحال جاری رہی تو کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیاں دیوالیہ ہونے سے بینکوں کی آمدنی متاثرہوگی اور کاروبار بند ہونے سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ موجودہ صورتحال میں زرمبادلہ کے ذخائرگھٹ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو روپے کی قدر میں کمی کا خدشہ ہے، معاشی ترقی کی شرح اور بجٹ متاثر ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا سے قبل پاکستان کی معشیت میں بہتری آنا شروع ہوگئی تھی، معیشت میں بہتری کیلئے حکومت نے کئی اقدامات کیے جس سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریٹنگ ایجنسوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم رکھا جبکہ مالی سال 2020 کے شروع میں محصولات بڑھنا شروع ہوئےتھے، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا تھا اور بیرونی سرمایہ کاری بھی تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔

مرکزی بینک کی رپورٹ میں صحت سے متعلق کہا گیا ہے کہ صحت کے شعبے پر حکومتی اخراجات خطے کے دیگر ممالک سے کم ہیں، موجودہ صورتحال میں عوام کی آگاہی بہت ضروری ہے، لاک ڈاؤن سے کھانے پینے اور معاشرتی تحفظ کی فراہمی چیلنج ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان کی معیشت کھپت پر مبنی ہے اور عوام کی قوت خرید کم ہونے سے جی ڈی پی متاثر ہوگی۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کیا گیا تھا جس میں 9 مئی کے بعد سے نرمی کی گئی ہے۔

 وبا کے باعث اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں بھی کمی کردی تھی اور اب شرح سود 8 فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔

لاہور کا کوئی علاقہ کورونا سے محفوظ نہیں: وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں انکشاف

لاہور کا کوئی علاقہ کورونا سے محفوظ نہیں: وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں انکشاف

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھیجی گئی سمری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاہور میں کورونا وائرس خطرناک حد تک پھیل گیا ہے، کوئی بھی رہائشی علاقہ اور قصبہ وبا سے محفوظ نہیں ہے۔

سیکرٹری محکمہ صحت کیپٹن ریٹائرڈ عثمان کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے 15 مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب کو لاہور میں کورونا وائرس کے کیسز کی صورت حال کے حوالے سے سمری ارسال کی گئی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں بتایا گیا کہ کورونا ہاٹ اسپاٹ، رہائشی اور کام کی جگہوں سے سیمپل لیے گئے، عمومی طور پر لیے گئے سیمپلز میں 5 اعشاریہ 18 اور اسمارٹ سیمپلنگ میں 6 اعشاریہ 01 فیصد ٹیسٹ مثبت آئے۔

سمری میں انکشاف کیا گیا کہ تمام سیمپلز میں 6 فیصد کا ٹیسٹ پازیٹیو رہا،بعض ٹاؤن میں 7 اعشاریہ 14 فیصد رہا۔

محکمہ صحت کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی گئی سمری میں لاہور میں کورونا کے اصل نئے مریضوں کا اندازہ 6 لاکھ 70 ہزار لگایا گیا ہے۔

سمری میں انکشاف کیا گیا کہ یہ تناسب لاہور میں خطرناک حد تک دکھائی دیتا ہے، کوئی بھی رہائشی علاقہ یا قصبہ نہیں، جہاں یہ بیماری نہ ہو۔

محکمہ صحت کے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ نے لاہور میں 4 ہفتوں کے مکمل لاک ڈاون کی سفارش کی ہے، سفارش کی گئی ہے کہ 50 سال سے اوپر کے لوگوں کو قرنطینہ میں یا علیحدہ رکھا جائے اور لوگوں کا گھروں میں رہنا لازمی قرار دیا جائے۔

کیپٹن ریٹائرڈ عثمان کا کہنا ہے کہ ماہرین پر مشتمل افراد کی جانب سے سفارشات بھیجی گئی تھیں۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی سفارشات پر دوسرے محکموں سے بھی رائے لی جائے۔

سیکرٹری صحت نے کہا کہ سفارشات سے پہلے باقاعدہ ٹیسٹ کرنے کی پوری مشق کی گئی، پچھلے دنوں میں مرض کی شدت بڑھنے کے بعد نئے مریضوں کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔

سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کیلئے جوتے تیار

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک دوسرے کو سماجی دوری اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے باوجود بھی لوگ سماجی دوری اختیار کرنے کے حوالے سے بے حد غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔

اس ضمن میں متعدد ریسٹورینٹس کی جانب سے نئی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے وائرس سے بچنے کے لیے سماجی دوری اختیار کی جا رہی ہے۔

حال ہی میں ایک رومانین موچی نے ایک ایسے جوتے پیش کیے ہیں جس کو پہننے کے بعد اب ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رومانیہ سے تعلق رکھنے والی جریگور لپ نامی ایک موچی نے لمبے جوتے تیار کرنے کے بارے میں سوچا جس کو پہن کر لوگ با آسانی سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

36 سال سے جوتے بنانے میں مہارت رکھنے والے جریگور لپ کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس سماجی دوری اختیار کرنے والے جوتوں کو خریدنے کے لیے متعدد آرڈرز آرہے ہیں۔

سماجی فاصلہ برقرار رکھنے والے یہ جوتے صارفین 115 ڈالرز میں حاصل کر سکتے ہیں۔

کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا، وزیراعظم

کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا، وزیراعظم

ایک طرف کورونا سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف غربت ،بےروزگاری اورکمزور معیشت ہے۔

ایسے میں حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید نرمی سے متعلق فیصلہ کیا ہو اس پر غور کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں  چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سمیت تمام آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جتنی زیادہ لوگ احتیاط کریں گے، ایس او پیز پر عمل کریں گے اتنا بہتر ہم اس بحران سے نمٹ سکیں گے اور اپنے ڈاکٹرز اور صحت کے عملے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا، امیرملکوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا، پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کورونا وائرس پھیلےگا، ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بڑی تعداد میں وطن واپس لانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ این سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس اسکریننگ کی سہولت محدود تھی اور صوبوں کو اعتراض تھا کہ بڑی تعداد میں بیرون ملک سے شہریوں کو نہ لایا جائے اس لیے محدود تعداد میں پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے پروازوں کی تعداد بڑھائی جارہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پیسے والے لوگ تو ایس اوپیز پر عمل کررہے ہیں لیکن عام آدمی کا کورونا کے حوالے سے مختلف رویہ ہے، اس حوالے سے ٹائیگرفورس کے رضاکار لوگوں میں شعور دیں گے کہ کس طرح کورونا کےساتھ رہنا ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ کھولنا چاہیے، کیوں کہ بعض علاقوں میں گرمیوں کے تین سے چار مہینے ہی سیاحت ہوتی ہے اور کاروبار چلتا ہے، اگر یہ وقت لاک ڈاؤن میں نکل گیا تو ان علاقوں میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔

اس سے قبل 7مئی کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے جو فیصلہ کیا وہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو ذمہ داری لینا پڑے گی، اگر اس مشکل مرحلے سے نکلنا ہے تو حکومت ڈنڈے کے زور سے نہیں بولے گی، حکومت اور پولیس کیا کیا کام کرسکتی ہے؟ کیا ہم پکڑ کر لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں اور وہاں ٹیسٹ کریں، یہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتی۔

اس کے بعد عید کے موقع پر سپریم کورٹ نے بھی تمام کاروبار اور شاپنگ مالز پورے ہفتے کھولنے کا حکم جاری کردیا تھا جس کے بعد تمام کاروبار اور شاپنگ مالز شام 5 بجے تک کھولنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔لاک ڈاؤن موجودہ شرائط کے ساتھ 31 مئی تک جاری رہے گا تاہم اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا سے 1543 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 72460 تک پہنچ گئی ہے۔