Blogroll

header ads

وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے واقعات میں ملوث مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔۔۔.

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔۔۔

گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، تحقیق؟

یک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔

ملالہ یوسف زئی کا بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر انصاف کا مطالبہ

پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر آواز بلند کردی۔۔

محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری اسکولز کیلئے آن لائن ایجوکیشن متعارف کرادی

محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری اسکولز کیلئے آن لائن ایجوکیشن متعارف کرادی

محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری اسکولوں کیلئے آن لائن ایجوکیشن متعارف کرادی۔

محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق کے جی سے 5 ویں جماعت تک کے طلبہ کو آن لائن ایجوکیشن دی جائے گی جس کیلئے ایس ای ایل ڈی لرننگ نام کی ایپ تیار کر لی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیسیف اور مائیکروسافٹ کی مدد سے آن لائن ایجوکیشن کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے بتایا کہ ریاضی، سائنس، انگلش اور اردو کے مضامین آن لائن پڑھائے جائیں گے جب کہ آن لان کورس انگریزی، اردو اور سندھی زبان میں موجود ہیں۔

محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق چھٹی سے 12 ویں جماعت تک آن لائن ایجوکیشن پر ابھی کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ کے آغاز سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں اور 15 جولائی تک بندش میں اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ اس دوران میٹرک اور انٹر سمیت او اور اے لیول کے سالانہ امتحانات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس پاکستان میں زبردستی پھیلایا گیا، بلاول بھٹو زرداری



چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کورونا کے معاملے پر عوام کی جانیں بچانے کے بجائے معیشت بچانے کا ماڈل اپنایا گیا، وفاق نے وائرس کی روک تھام کی سندھ حکومت کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  پاکستان میں کورونا سے اموات کی شرح بھارت اور چین سے زیادہ ہے،کسی کو تو ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری بات نہ مانیں مگر ان کی تو مانیں جو اس بیماری سے فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں، وفاقی حکومت اعدادو شمار کے ساتھ کھیل کر عوام کو بے وقوف بنارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم  عمران خان کہتے ہیں پاکستان میں کورونا پھیل چکا اور روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے، لیکن کورونا وائرس پاکستان میں زبردستی پھیلایا گیا، ہم کوشش کر رہے تھے کورونا وائرس کو تیزی سے پھیلنے سے روکاجائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت دیگر اہم شہروں میں کورونا پھیلنے سے روکنےکی ہماری کوششوں کو سبوتاژ کیاگیا، اسپتال کورونا مریضوں سے بھر رہے ہیں کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں، وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو غلط معلومات دی جا رہی ہیں، عوام کو غلط معلومات دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹنی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور نرسز کی حفاظت ہماری ذمہ د اری ہے، کراچی اور دیگر جگہوں پر ڈاکٹروں اور نرسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پیپلزپارٹی وبا کانقصان جتنا کم کرسکتی ہے کرے گی، وفاقی حکومت اپنا رویہ درست کرے پاکستان میں جنگی صورت حال ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ڈاکٹروں اورنرسوں کو لاوارث چھوڑا ہے،وزیراعظم جو وزیر صحت بھی ہیں کتنی بار فرنٹ لائن کے ڈاکٹرز سے ملے ؟ پیپلز پارٹی ایک سال سے ٹڈیوں کا معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے لانے کی کوشش کرتی رہی،وفاقی حکومت نے ہمیں ٹڈیوں کے معاملے پر بھی لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 96 ہزار ہوچکی ہے جب کہ 1974 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے نتائج کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، شہباز شریف



مسلم لیگ ن کے  صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے نتائج کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

اپنے ایک بیان شہباز شریف نے کورونا سے اموات اور متاثرین کی تعداد میں اضافے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے وزیراعظم کی کنفیوژن اب تک دور ہوجانی چاہیے تھی۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کورونا کی تباہ کاری وزیراعظم اور حکومت کے دعوؤں کو غلط ثابت کرچکی ہے، اموات کی شرح اور متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر حالات کا جائزہ لیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی اور علاج معالجے کے لیے درربدر کی ٹھوکریں کھا نے والے عوام کی شکایات کا ازالہ کیاجائے اورکورونا وبا میں اضافے کا الزام عوام پر نہ لگایا جائے، انہیں تیار کیاجائے اور آگاہی دی جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد 96000 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 1974 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں یہ بیماری اتنی مہلک نہیں جتنا یورپ اور دیگر ممالک میں رہی ہے۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ مہینوں اور سالوں کے لیے قوموں کو بند نہیں کیا جاسکتا، وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طاقتور ہتھیار حفاظتی تدابیر ہیں، کامیاب طریقہ یہی ہے کہ اپنی طرز عمل میں تبدیلی لائیں اور حفاظتی تدابیراپنائیں۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ ملک نہ لاک ڈاؤن میں واپسی کا متحمل ہے اور نہ ہی ہم کورونا کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، عوام خود احتیاط کریں۔

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ





وفاقی حکومت  نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق چینی بحران میں ملوث افراد کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کل اہم اجلاس میں کیا جائے گا۔خیال رہے کہ  گذشتہ دنوں حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔

فارنزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ چینی بحران کی فارنزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

تاہم جہانگیر ترین علاج کی غرض سے گزشتہ روز لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ ان کی اچانک لندن روانگی کی بعض افراد نے سوال بھی اٹھایا تاہم انہوں نے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سال میں دو بار چیک اپ کیلئے لندن جاتے ہیں اور جلد وطن واپس آجائیں گے۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن  کی جانب سے حال ہی میں چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں سے متعلق ایک پریس ریلیز جاری کی گئی۔

پولٹری ایسوسی ایشن  نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ مرغی، گوشت، دودھ، انڈے، مچھلی اور اس کی چیزوں میں اعلیٰ قسم کی پروٹین موجود ہے جو کورونا وائرس کےخلاف قوت مدافعت کوبڑھاتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صارفین افواہوں پر توجہ نہ دیں اور چکن کا استعمال جاری رکھیں۔

شاہد آفریدی نے سیاست میں آنے سے متعلق اپنا ارادہ واضح کردیا

شاہد آفریدی نے سیاست میں آنے سے متعلق اپنا ارادہ واضح کردیا

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ اُن کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اللہ اُن سے کیا کام لے گا،اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

کوئٹہ میں چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں سے خطاب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ  جس دن بلوچستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا دنیا پاکستان سے امداد لے گی، بلوچستان میں ٹیلنٹ ہے لیکن سہولیات کا فقدان ہے۔

 شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جس دن آپس میں ایک ہوئے تو دشمن کو شکست ہوگی، پرانی باتوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بچے کے پاؤں سے کانٹے نکال کر جوتا پہنایا جس سے بہت خوشی ملی، میری کوششوں کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں، لیکن اللہ اُن سے کیا کام لے گا اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، کل یہ نہ کہا جائے کہ یو ٹرن لے لیا۔

'فاسٹ بولر نے کہا کاش دھماکا ہوجائے، 20 سیکنڈز بعد حملہ ہوگیا'

سری لنکن کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان کمار سنگاکارا نے لاہور میں ٹیم کی بس پر ہونے والے حملے کو یاد کرتے ہوئے بس ڈرائیور کو ایک بار پھر ہیرو قرار دیا ہے۔

3مارچ 2009کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کمار سنگاکارا نے کہا کہ ہم معمول کے مطابق بس میں اسٹیڈیم کی جانب رواں دواں تھے، گاڑی میں سفر کے دوران کھلاڑی ایک دوسرے سے گپ شپ کررہے تھے۔

اپنے حالیہ انٹرویو میں سنگاکارا نے انکشاف کیا ہے کہ بس کے اندر ایک فاسٹ بولر یہ کہہ رہا تھا کہ 'وکٹ بہت زیادہ فلیٹ ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اسٹریس فریکچر نہ ہوجائے ، وہ کھلاڑی گپ شپ کے دوران کہہ رہا تھا کہ کاش کوئی بم دھماکا ہوجائے اور ہم لوگ گھر کو واپس لوٹ جائیں'۔

سنگا کارا نے انکشاف کیا کہ اس کھلاڑی کی بات ابھی مکمل ہوئے 20 سیکنڈز ہی گزرے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ، ہم سمجھے کہ کوئی آتش بازی کررہا ہے ، اتنے میں ایک کھلاڑی چلایا کہ 'نیچے لیٹ جائو ، حملہ آور بس کو نشانہ بنارہے ہیں'، تلکارتنے دلشان سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے ، میں وسط میں بیٹھا ہوا تھا ، مہیلا جے وردھنے اور مرلی دھرن میرے عقب میں تھے ، مرلی دھرن، تھیلان سماراویرا کے درد کی آواز سن سکتے تھے ، مجھے یاد ہے اوپنر تھرنگا بھی سامنے ہی موجود تھے ، ہم بس کی نشستوں کے بیچ میں چھپے ہوئے تھے۔

سنگاکارا نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بس پر کئی گولیاں برسائیں، گرنیڈز بھی پھینکے اور راکٹ لانچر بھی استعمال کیا ، میں نہیں جانتا ہم کس طرح سے بچ گئے ، تھیلان زخمی ہوچکے تھے ، مجھے بھی کندھے پر لوہے وغیرہ کے کئی ٹکڑے لگے ، اجینتھا مینڈس بھی زخمی تھے، تھرنگا کے سینے سے خون بہہ رہا تھا اور اس دوران وہ گر گئے کہ شاید انہیں گولی لگی ہے ، ہمیں ایک دوسرے کی تکلیف سے چلانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے ہماری سیکورٹی پر مامور تمام افراد مارے جاچکے تھے ، یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل تھا ، حملہ آوروں نے ہمارے ڈرائیور کو کئی بار نشانہ بنانے کی کوشش کی ، وہ کئی مرتبہ بال بال بچے ، وہی ہمارے اصل ہیرو تھے ، ہم صرف اسی لیے زندہ بچ گئے کیوں کہ وہ زندہ تھے اور وہ وہاں سے ہمیں زندہ نکال لائے۔