Blogroll

header ads

وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے واقعات میں ملوث مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔۔۔.

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔۔۔

گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، تحقیق؟

یک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔

ملالہ یوسف زئی کا بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر انصاف کا مطالبہ

پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر آواز بلند کردی۔۔

شفقت محمود بچوں کے وزیراعظم منتخب

26 نومبر سے تعلیمی ادارے بند کیے جانے سے متعلق فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وزیر تعلیم شفقت محمود کا نام ٹاپ پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ یہی نہیں بچوں نے پاکستان کے اگلے وزیراعظم کے لیے بھی وزیر تعلیم شفقت محمود کو منتخب کرتے ہوئے فیصلہ سنا دیا۔ طلبہ نے شرارتی چٹکلوں کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور شفقت محمود کے حوالے سے طرح طرح کے دلچسپ میمز بنا کر شیئر کیے۔ کسی نے وفاقی وزیر تعلیم کو ہیرو کہا تو کسی نے دلوں کا راجہ جب کہ کچھ لوگوں نے تو انہیں بچوں کا وزیراعظم قرار دے دیا۔ اسی طرح ایک میم میں لکھا تھا کہ 'ہم لیپ ٹاپ نہیں۔۔۔چھٹیاں بانٹتے ہیں'۔

وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے واقعات میں ملوث مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بعض وفاقی وزراء نے زیادتی کے مجرمان کو پھانسی کی سزا قانون کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا اور رائے دی کہ ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی کے تختے پر لٹکایا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نورالحق قادری نے پھانسی کی حمایت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے زیادتی کے مجرمان کےلیے کیسٹریشن (جنسی صلاحیت سے محروم کرنا) کا قانون لانے کی بھی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کے تحفظ کے لیے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہوگی، ابتدائی طور پر کیسٹریشن کے قانون کی طرف جانا ہوگا۔ ان کاکہنا تھا کہ قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے، سخت سے سخت قانون کا اطلاق یقینی بنایا جائے گا اور متاثرہ خواتین یا بچے بلاخوف وخطر اپنی شکایات درج کراسکیں گے جب کہ متاثرہ خواتین وبچوں کی شناخت کے تحفظ کا بھی خاص خیال رکھا جائےگا۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ کو بتایاگیا کہ قانونی ٹیم نے 'ریپ قانون آرڈیننس' کے مسودہ پر کام مکمل کرلیا ہے، خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات، اور گواہوں کا تحفظ قانون کا بنیادی حصہ ہوگا۔

Lahore ranks world’s most polluted city yet again, with 'hazardous' air quality

Lahore has once again dominated the list of the most polluted cities in the world, with its air quality index (AQI) recorded at six times over the safe limit. On Monday morning, Lahore was engulfed in a grey haze and recorded an AQI of 306, according to data compiled by IQAir, a global air quality monitor.
The other Pakistani city to make it to the top ten cities with the most toxic air was Karachi, which ranked seventh with an AQI of 168. Meanwhile, India’s Delhi and Mumbai came in second and fourth respectively. The United States Environmental Protection Agency regards air quality satisfactory if the AQI is under 50. Lahore’s AQI fell in the range of 301 and higher, which has been classified as “hazardous”. To reduce the smog, the provincial disaster management authority in Punjab has to date sealed 613 brick kilns, 2,148 industries and impounded 8,579 vehicles. PDMA has arrested 478 people, according to a report by the authority from November 22.

نوازشریف والدہ کی میت کے ساتھ وطن واپس آنے کیلئے تیار

لاہور,مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف والدہ کی میت کے ساتھ وطن واپس آنے کیلئے تیار ہو گئے ،اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز نے وطن واپسی کے فیصلے کی مخالفت کردی،نوازشریف وطنی واپسی کافیصلہ مریم اور دیگر رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد کریں گے ۔ نجی ٹی وی 92 نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ بیگم شمیم اختر کے انتقال کے بعد نوازشریف کے وطن واپس آنے سے متعلق مشاورت شروع کردی گئی ،ذرائع کاکہنا ہے کہ ن لیگ کے قائد میاں نوازشریف وطن واپس آنے کیلئے تیار ہیں لیکن اسحاق ڈار،حسن اور حسین نواز، نوازشریف کے وطن واپس نہ جانے پر اصرارکررہے ہیں،نوازشریف وطنی واپسی کافیصلہ مریم اور دیگر رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد کریں گے ۔

کورونا کی دوسری لہر،26 نومبر سے ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کافیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے کورونا کے باعث ملک بھر میں 26 نومبر سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تاہم حتمی فیصلہ این سی او سی کے اجلاس میں ہوگا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہاہے کہ 26 نومبرسے 24 دسمبرآن لائن کلاسز ہوں گی جبکہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک مکمل چھٹیاں ہوں گی اور11 جنوری کو تمام تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں گے،وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہاکہ 26 نومبرسے بچے گھر میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے،آن لائن اورہوم ورک کے ذریعے بچوں کو پڑھایا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ کورونا کے باعث تمام امتحانات ملتوی کردیئے گئے ،دسمبر میں ہونے والے امتحانات ملتوی کردیئے ہیں،امتحانات 15 جنوری کے بعد ہوں گے، میٹرک کے امتحانات مارچ کے بجائے مئی جون میں ہونگے،نیا تعلیمی سال اگست میں شروع ہوگا،شفقت محمود کاکہناتھا کہ یونیورسٹی ہاسٹلز کے طلبہ کی ایک تہائی حصہ ہاسٹلز میں قیام کرسکیں گی ،ووکیشنل اداروں کو بند نہیں کررہے ،ووکیشنل اداروں میں تربیت کا عمل جاری رہے گا۔ معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہاکہ گزشتہ 24گھنٹے میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہواہے،بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے توہسپتالوں پر دباوَ بڑھ جائے گا،ہم نے ہر صورت کورونا سے بچاوَ کے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ ایم کیٹ اور دوسری انٹری ٹیسٹ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

Coronavirus in Pakistan: Schools will remain closed until January 10, 2021

ISLAMABAD: Federal Minister for Education Shafqat Mahmood on Monday said that all schools across the country will remain closed until January 10, 2021, in the wake of the rising coronavirus cases. "All ministers have mutually decided that to keep all educational institutions, including schools, colleges, universities, and tuition centres closed. However, online classes will continue from November 26 to December 24 after which winter break will start. Schools will reopen on January 11, 2021," Shafqat Mahmood said. 1-Nov 26 — All students to start studying from home 2-Dec 24 — Last day of online classes 3-Dec 25 to Jan 10, 2021 — Winter holidays 4-Jan 11 — Schools to resume activities after reevaluation of the situation in the first week of January 5-Professional exams including MDCAT 2020 to be held as per schedule Board exams to be pushed to June The decision has been made during the Inter-Provincial Education Ministers Conference (IPEMC) convened to discuss school closures. Minister Shafqat Mahmood said that children's health and safety is the top-most priority of the government, adding that examinations scheduled to take place in December will be postponed, with the exception of a few professional exams. During the meeting, it was decided that micro-decisions regarding examinations and other matters will be taken by the respective provinces. Punjab schools to promote students based on homework Meanwhile, Punjab Education Minister Murad Raas said that schoolchildren in Punjab will be promoted to the next classes based on their homework. He also added that Punjab Board exams, which are held in March, will now be conducted in May and June 2021. he minister also said that while schools will remain closed, teachers will have to go to schools twice a week, i.e. on Mondays and Thursdays to ensure that the quality of homework is up to the mark. Regarding the closure of schools, Murad Raas said that he is not in favour of closing schools, but the decision has been taken unanimously by all the provincial education ministers. "If schools are being closed to protect children, then parks, shopping malls, and other recreational places should also be closed as well," he said. No promotion without exams in Sindh However, Sindh Education Minister Saeed Ghani said that no student will be promoted to the next class without examinations this year, adding that a decision regarding the dates of class 9th, matric, and intermediate exams is yet to be taken. During the meeting, the minister had suggested that instead of closing all schools in the province, only primary schools — which have 75% enrolment — should be closed, while children from class 6th and above should continue to go to school. However, Federal Education Minister said that schools across the country should remain closed for the specified duration without exception.

آئندہ مالی سال کے بجٹ کی اہم تجاویز سامنے آ گئیں

آئندہ مالی سال کے بجٹ کی اہم تجاویز سامنے آ گئیں

اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کی اہم تجاویز سامنے آ گئیں۔

ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں کمی مشکل ہے جب کہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومتی اخراجات کو کم سے کم رکھا جائے گا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اگلے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں سود کی ادائیگیوں کے بجٹ کو کم نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران ٹیکس آمدن میں اضافہ مشکل ہے جب کہ اگلے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں معمولی اضافہ ممکن ہے۔

ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ اگلے بجٹ میں ٹارگٹڈ سبسڈیز دی جائیں گی۔

خیال رہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری اسکولز کیلئے آن لائن ایجوکیشن متعارف کرادی

محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری اسکولز کیلئے آن لائن ایجوکیشن متعارف کرادی

محکمہ تعلیم سندھ نے پرائمری اسکولوں کیلئے آن لائن ایجوکیشن متعارف کرادی۔

محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق کے جی سے 5 ویں جماعت تک کے طلبہ کو آن لائن ایجوکیشن دی جائے گی جس کیلئے ایس ای ایل ڈی لرننگ نام کی ایپ تیار کر لی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیسیف اور مائیکروسافٹ کی مدد سے آن لائن ایجوکیشن کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے بتایا کہ ریاضی، سائنس، انگلش اور اردو کے مضامین آن لائن پڑھائے جائیں گے جب کہ آن لان کورس انگریزی، اردو اور سندھی زبان میں موجود ہیں۔

محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق چھٹی سے 12 ویں جماعت تک آن لائن ایجوکیشن پر ابھی کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ کے آغاز سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں اور 15 جولائی تک بندش میں اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ اس دوران میٹرک اور انٹر سمیت او اور اے لیول کے سالانہ امتحانات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس پاکستان میں زبردستی پھیلایا گیا، بلاول بھٹو زرداری



چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کورونا کے معاملے پر عوام کی جانیں بچانے کے بجائے معیشت بچانے کا ماڈل اپنایا گیا، وفاق نے وائرس کی روک تھام کی سندھ حکومت کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  پاکستان میں کورونا سے اموات کی شرح بھارت اور چین سے زیادہ ہے،کسی کو تو ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری بات نہ مانیں مگر ان کی تو مانیں جو اس بیماری سے فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں، وفاقی حکومت اعدادو شمار کے ساتھ کھیل کر عوام کو بے وقوف بنارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم  عمران خان کہتے ہیں پاکستان میں کورونا پھیل چکا اور روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے، لیکن کورونا وائرس پاکستان میں زبردستی پھیلایا گیا، ہم کوشش کر رہے تھے کورونا وائرس کو تیزی سے پھیلنے سے روکاجائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت دیگر اہم شہروں میں کورونا پھیلنے سے روکنےکی ہماری کوششوں کو سبوتاژ کیاگیا، اسپتال کورونا مریضوں سے بھر رہے ہیں کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں، وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو غلط معلومات دی جا رہی ہیں، عوام کو غلط معلومات دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹنی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور نرسز کی حفاظت ہماری ذمہ د اری ہے، کراچی اور دیگر جگہوں پر ڈاکٹروں اور نرسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پیپلزپارٹی وبا کانقصان جتنا کم کرسکتی ہے کرے گی، وفاقی حکومت اپنا رویہ درست کرے پاکستان میں جنگی صورت حال ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ڈاکٹروں اورنرسوں کو لاوارث چھوڑا ہے،وزیراعظم جو وزیر صحت بھی ہیں کتنی بار فرنٹ لائن کے ڈاکٹرز سے ملے ؟ پیپلز پارٹی ایک سال سے ٹڈیوں کا معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے لانے کی کوشش کرتی رہی،وفاقی حکومت نے ہمیں ٹڈیوں کے معاملے پر بھی لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 96 ہزار ہوچکی ہے جب کہ 1974 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے نتائج کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، شہباز شریف



مسلم لیگ ن کے  صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے نتائج کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

اپنے ایک بیان شہباز شریف نے کورونا سے اموات اور متاثرین کی تعداد میں اضافے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے وزیراعظم کی کنفیوژن اب تک دور ہوجانی چاہیے تھی۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کورونا کی تباہ کاری وزیراعظم اور حکومت کے دعوؤں کو غلط ثابت کرچکی ہے، اموات کی شرح اور متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر حالات کا جائزہ لیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی اور علاج معالجے کے لیے درربدر کی ٹھوکریں کھا نے والے عوام کی شکایات کا ازالہ کیاجائے اورکورونا وبا میں اضافے کا الزام عوام پر نہ لگایا جائے، انہیں تیار کیاجائے اور آگاہی دی جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد 96000 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 1974 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ترقی اور منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں یہ بیماری اتنی مہلک نہیں جتنا یورپ اور دیگر ممالک میں رہی ہے۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ مہینوں اور سالوں کے لیے قوموں کو بند نہیں کیا جاسکتا، وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طاقتور ہتھیار حفاظتی تدابیر ہیں، کامیاب طریقہ یہی ہے کہ اپنی طرز عمل میں تبدیلی لائیں اور حفاظتی تدابیراپنائیں۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ ملک نہ لاک ڈاؤن میں واپسی کا متحمل ہے اور نہ ہی ہم کورونا کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، عوام خود احتیاط کریں۔

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ





وفاقی حکومت  نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق چینی بحران میں ملوث افراد کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کل اہم اجلاس میں کیا جائے گا۔خیال رہے کہ  گذشتہ دنوں حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔

فارنزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ چینی بحران کی فارنزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

تاہم جہانگیر ترین علاج کی غرض سے گزشتہ روز لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ ان کی اچانک لندن روانگی کی بعض افراد نے سوال بھی اٹھایا تاہم انہوں نے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سال میں دو بار چیک اپ کیلئے لندن جاتے ہیں اور جلد وطن واپس آجائیں گے۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن  کی جانب سے حال ہی میں چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں سے متعلق ایک پریس ریلیز جاری کی گئی۔

پولٹری ایسوسی ایشن  نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ مرغی، گوشت، دودھ، انڈے، مچھلی اور اس کی چیزوں میں اعلیٰ قسم کی پروٹین موجود ہے جو کورونا وائرس کےخلاف قوت مدافعت کوبڑھاتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صارفین افواہوں پر توجہ نہ دیں اور چکن کا استعمال جاری رکھیں۔

شاہد آفریدی نے سیاست میں آنے سے متعلق اپنا ارادہ واضح کردیا

شاہد آفریدی نے سیاست میں آنے سے متعلق اپنا ارادہ واضح کردیا

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ اُن کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اللہ اُن سے کیا کام لے گا،اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

کوئٹہ میں چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں سے خطاب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ  جس دن بلوچستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا دنیا پاکستان سے امداد لے گی، بلوچستان میں ٹیلنٹ ہے لیکن سہولیات کا فقدان ہے۔

 شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جس دن آپس میں ایک ہوئے تو دشمن کو شکست ہوگی، پرانی باتوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بچے کے پاؤں سے کانٹے نکال کر جوتا پہنایا جس سے بہت خوشی ملی، میری کوششوں کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں، لیکن اللہ اُن سے کیا کام لے گا اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، کل یہ نہ کہا جائے کہ یو ٹرن لے لیا۔

'فاسٹ بولر نے کہا کاش دھماکا ہوجائے، 20 سیکنڈز بعد حملہ ہوگیا'

سری لنکن کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان کمار سنگاکارا نے لاہور میں ٹیم کی بس پر ہونے والے حملے کو یاد کرتے ہوئے بس ڈرائیور کو ایک بار پھر ہیرو قرار دیا ہے۔

3مارچ 2009کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کمار سنگاکارا نے کہا کہ ہم معمول کے مطابق بس میں اسٹیڈیم کی جانب رواں دواں تھے، گاڑی میں سفر کے دوران کھلاڑی ایک دوسرے سے گپ شپ کررہے تھے۔

اپنے حالیہ انٹرویو میں سنگاکارا نے انکشاف کیا ہے کہ بس کے اندر ایک فاسٹ بولر یہ کہہ رہا تھا کہ 'وکٹ بہت زیادہ فلیٹ ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اسٹریس فریکچر نہ ہوجائے ، وہ کھلاڑی گپ شپ کے دوران کہہ رہا تھا کہ کاش کوئی بم دھماکا ہوجائے اور ہم لوگ گھر کو واپس لوٹ جائیں'۔

سنگا کارا نے انکشاف کیا کہ اس کھلاڑی کی بات ابھی مکمل ہوئے 20 سیکنڈز ہی گزرے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ، ہم سمجھے کہ کوئی آتش بازی کررہا ہے ، اتنے میں ایک کھلاڑی چلایا کہ 'نیچے لیٹ جائو ، حملہ آور بس کو نشانہ بنارہے ہیں'، تلکارتنے دلشان سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے ، میں وسط میں بیٹھا ہوا تھا ، مہیلا جے وردھنے اور مرلی دھرن میرے عقب میں تھے ، مرلی دھرن، تھیلان سماراویرا کے درد کی آواز سن سکتے تھے ، مجھے یاد ہے اوپنر تھرنگا بھی سامنے ہی موجود تھے ، ہم بس کی نشستوں کے بیچ میں چھپے ہوئے تھے۔

سنگاکارا نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بس پر کئی گولیاں برسائیں، گرنیڈز بھی پھینکے اور راکٹ لانچر بھی استعمال کیا ، میں نہیں جانتا ہم کس طرح سے بچ گئے ، تھیلان زخمی ہوچکے تھے ، مجھے بھی کندھے پر لوہے وغیرہ کے کئی ٹکڑے لگے ، اجینتھا مینڈس بھی زخمی تھے، تھرنگا کے سینے سے خون بہہ رہا تھا اور اس دوران وہ گر گئے کہ شاید انہیں گولی لگی ہے ، ہمیں ایک دوسرے کی تکلیف سے چلانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے ہماری سیکورٹی پر مامور تمام افراد مارے جاچکے تھے ، یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل تھا ، حملہ آوروں نے ہمارے ڈرائیور کو کئی بار نشانہ بنانے کی کوشش کی ، وہ کئی مرتبہ بال بال بچے ، وہی ہمارے اصل ہیرو تھے ، ہم صرف اسی لیے زندہ بچ گئے کیوں کہ وہ زندہ تھے اور وہ وہاں سے ہمیں زندہ نکال لائے۔

گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، تحقیق

یک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

محققین نے مشورہ دیا ہے کہ گنج پن کو ہائی رسک عنصر سمجھا جانا چاہیے، انہوں نے یہ بات امریکا میں کورونا سے مرنے والے پہلے امریکی ڈاکٹر فرینک گیبرن کا کیس سامنے آنے کے بعد کہی اوراسے "گیبرن سائن "کا نام دیا۔

ڈاکٹر فرینک گیبرن بھی گنج پن کا شکار تھے۔ چین میں کورونا کے بعد جنوری سے اب تک کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں اموات کے امکانات زیادہ ہیں۔

سائنسدانوں کی رائے ہے کہ مردوں میں گنج پن کا سبب بنے والے ہارمونز کی وجہ سے ہی کورونا وائرس سے مردوں کی ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔ 

ہسپانوی ماہرین کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مردوں میں اینڈروجین (Androgens) نامی ہارمون موجود ہوتے ہیں جو ان میں گنج پن کا سبب بنتے ہیں اور یہی ہارمونز کورونا وائرس کو خلیوں پر حملے میں مدد دیتے ہیں۔

اسپین میں محققین اس بات پر تحقیق کر ر ہے ہیں کہ مردوں میں پائے جانے والے سیکس ہارمونز (جیسا کہ ٹیسٹو اسٹیرون) اور کورونا وائرس کے درمیان کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

ایسی دیگر کئی تحقیق پہلے سے ہی سائنسی جریدوں میں گردش کر رہی ہیں کہ گنج پن کا شکار مردوں کے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر کارلوس ویمبئر کہتے ہیں کہ اینڈروجین یقینی طور پر وہ ہارمون ہے جو کورونا وائرس کو انسانی خلیوں پر حملے میں مدد دیتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ گنج پن وائرس کی شدت معلوم کرنے کا زبردست پیمانہ ہے۔

پروفیسر کارلوس نے کہا کہ ایسے مریض جنہیں کورونا وائرس کے شدید حملے کی وجہ سے اسپتالوں میں لایا گیا ان کی اکثریت گنج پن کا شکار تھی۔ 122 مریضوں پر ہونے والی تحقیق کے حوالے سے امریکن اکیڈمی آف ڈرمیٹولوجی نے مقالہ لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ میڈرڈ کے تین مختلف اسپتالوں میں داخل ہونے والے 79 فیصد مرد، جن کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے، گنجے تھے۔

اسپین میں دیگر 41 مریضوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق بھی یہی ثابت ہوا کہ ان کی 71 فیصد تعداد بھی گنج پن کا شکار تھی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ یہ محدود پیمانے پر کی گئی تحقیق تھی جس میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پختہ نتائج کے حصول کیلئے تحقیق کا دائرہ بڑھانا پڑے گا۔

امریکی آنکولوجسٹ میتھیو ریٹگ نے پروسٹیٹ کے علاج کیلئے استعمال کی جانے والی دواؤں کا کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال شروع کرکے نئی تحقیق شروع کی ہے۔

اس طریقہ علاج میں مریض کے اینڈروجین کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے گنج پن کے شکار مریضوں کے مرنے کے امکانات پر تحقیق ہو رہی ہے۔ 

امریکا میں سیاہ فام شخص کے قتل کیخلاف مظاہرے تحریک میں تبدیل ہونا شروع

امریکا میں سیاہ فام شخص کے قتل کیخلاف مظاہرے تحریک میں تبدیل ہونا شروع

سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف امریکا میں گزشتہ کئی روز سے جاری مظاہرے ایک تحریک میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔

امریکا میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل اور نسل پرستی کے خلاف وائٹ ہاؤس، کیپیٹل ہل اور لنکنز میموریل کے سامنے مظاہرےکیے گئے۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف فوج تعینات نہیں کی جائے گی لیکن اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کے اطراف ڈیڑھ کلومیٹر کا احاطہ رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا اور فوج کی بکتر بند گاڑیاں اور سیکڑوں فوجی تعینات کر دیے گئے۔

جیو نیوزسے بات کرتے ہوئے پاکستانی امریکن وکیل سبحان طارق کا کہنا تھاکہ مظاہرین محض قاتلوں کو سزا نہیں بلکہ نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

نیویارک شہر کے علاقوں بروکلین اور مین ہٹن میں بھی ہزاروں افراد نے نسل پرستی کے خلاف احتجاج کیا۔

اس صورتحال کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے "جارج فلائیڈ اچھاآدمی نہیں تھا " کاپیغام دینےوالی ویڈیو ری ٹوئٹ کر دی۔

ویڈیو پیغام کنزرویٹو خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فلائیڈکوشہیدقرار دینا اسے برداشت نہیں۔

پاکستانی امریکن پروفیسر نعیم ظفر کاکہناتھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ ویڈیو ری ٹوئٹ کرنا انتخابی مہم کاحصہ ہے۔

لاس اینجسم اور سان فرانسسکو میں بھی ہزاروں افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھاکہ سفید فام افراد کے ہاتھوں سیاہ فاموں سے نامساوی سلوک نہیں چلے گا۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں 25 مئی 2020 کو سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں 45 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔

مینی پولس میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس نے امریکا کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

کورونا۔ سازش یا حقیقت

کورونا وائرس سب سے پہلے چین میں سامنے آیا اور پہلی فرصت میں چینی ہی متاثر ہوئے۔ چینی ماہرین اور حکومت کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا کہ یہ ایک جان لیوا وائرس ہے جو جانور سے انسان میں منتقل ہوا ہے اور جو خطرناک حد تک ایک سے دوسرے انسان کو منتقل ہوتا ہے۔

تب ساری دنیا نے چین کے اس موقف پر اعتبار کیا اور امریکا سمیت سب نے اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا لیکن اس وقت بعض چینیوں اور دیگر امریکا مخالف قوتوں نے اس شک کا اظہار شروع کیا کہ شاید یہ امریکا نے کوئی سازش کی ہو اور لیبارٹری میں وائرس تیار کرکے چین منتقل کیا ہو لیکن جب وائرس چین سے نکل کر یورپ اور امریکا منتقل ہو گیا تو معاملہ اُلٹ ہو گیا اور یوں اس سازشی تھیوری سے ہوا نکل گئی لیکن پھر معاملہ اُلٹ ہوگیا۔

ٹرمپ سمیت چین کے کئی مخالفوں نے یہ سازشی تھیوری گھڑ لی کہ شاید یہ چین نے لیبارٹری میں تیار کرکے امریکا اور یورپ منتقل کیا ہے۔ اب کامن سینس کی بات ہے کہ اگر امریکا نے چین کے خلاف تیار کرنا تھا تو پھر ایسی چیز کیوں تیار کی جس سے خود وہ بھی محفوظ نہیں رہ سکا بلکہ زیادہ متاثر ہوا اور اگر چینیوں نے یہ کام کرنا تھا تو پھر اسے ذمہ داری اپنے سر لینے اور اپنے ہزاروں لوگوں کو مروانے کی کیا ضرورت تھی؟

لیکن سازشی نظریات ذہن کے لئے ایسی مرغوب غذا ہے کہ آج بھی ایک تہائی امریکیوں کو یقین ہے کہ کورونا وائرس چین نے لیبارٹری میں تیار کرکے ان کے ملک منتقل کیا ہے۔ اور تو اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک اسٹڈی کے مطابق ساٹھ فیصد برطانوی شہری سمجھتے ہیں کہ کورونا کے حوالے سے ان کی حکومت انہیں پوری حقیقت نہیں بتارہی۔

اسی طرح کچھ لوگ اس وائرس کی پیدائش کو فائیو جی ٹیکنالوجی کا نتیجہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسری بڑی سازشی تھیوری یہ ہے کہ بل گیٹس اور ان جیسے لوگوں نے ویکسین میں جو سرمایہ کاری ہے یہ سب کچھ اس کے تناظر میں یہی لوگ کررہے ہیں تاکہ ویکسین تیار کرکے وہ کھربوں ڈالر کما سکیں تاہم بیرون ملک جتنی بھی سازشی تھیوریز ہیں۔

وہ زیادہ تر کورونا وائرس کی تخلیق سے متعلق ہیں تاہم دنیا کی تمام اقوام اسے جان لیوا مرض، وبا اور ایک بڑی مصیبت سمجھتی ہیں اور ہر ملک اپنے اپنے طریقے سے اس سے جان چھڑانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن سازشی تھیوریز کی لیبارٹری کی حیثیت رکھنے والے وطن عزیز میں تو معاملہ یوں تشویشناک ہے کہ یہاں کی اکثریت اسے بیماری یا وبا کے بجائے ڈرامہ سمجھتی ہے۔

پاکستان میں ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ یہود و ہنود کی سازش ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو اپنی عبادت گاہوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک اور سازشی تھیوری یہ زیرگردش ہے کہ اس کی ویکسین کے ذریعے امریکی پاکستانی مسلمانوں کے اندر ایسا چپ انسٹال کرنا چاہتے ہیں کہ جس کے ذریعے پھر ان کے عقیدے اور نظریے کو وہ اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کریں گے۔ ایک اور سازشی تھیوری یہ ہے کہ کورونا کے نام پر زیادہ سے زیادہ اموات دکھا کر وزیراعظم عمران خان دنیا سے پیسہ بٹورنا چاہتے ہیں۔

یہ سازشی تھیوری سب سے خطرناک اور مہلک یوں ہے کہ اس سے مزید ضمنی سازشی تھیوریز نے جنم لیا ہے جس کی وجہ سے لوگ ٹیسٹ کرنے اور اسپتال جانے سے گریز کررہے ہیں۔

جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ سازشی تھیوریز تیار کرنا اور ان پر یقین کرنا انسانی ذہن کی مرغوب غذا ہے لیکن کم از کم میں ابھی تک کورونا سے متعلق کسی سازشی نظریے کا قائل نہیں ہو سکا۔

میں ڈاکٹر ہوں اور نہ طبی معاملات کو سمجھتا ہوں لیکن چین کے شہر ووہان سے جنم لینے کے دن سے اس معاملے کو فالو کررہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جس دن پاکستان میں عورت مارچ ہورہا تھا (اس وقت تک کورونا پاکستان میں داخل نہیں ہوا تھا) تو اس دن میرا جو کالم جنگ میں شائع ہوا، وہ بھی کورونا سے متعلق تھا اور میرے ٹی وی پروگرام ”جرگہ“ میں بھی اسی موضوع سے متعلق ماہرین کے ساتھ گفتگو ہوئی۔

یقیناً سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اس لئے عالمی سطح پر بھی اس وبا پر سیاست ہونے لگی ہے اور پاکستان کے اندر بھی اس پر سیاست ہورہی ہے لیکن دنیا بھر اور پاکستان کے ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا ایک خطرناک وبا ہے اور یہ کہ ابھی تک اس کی ویکسین یا علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔

میرے پڑھنے والے تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں میری سوچ سے بخوبی آگاہ ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے سے نمٹنے میں حکومت نے پہاڑ جتنی غلطیاں کی ہیں لیکن یہ سازشی تھیوری سراسر بکواس ہے کہ حکومت جان بوجھ کر کورونا کے کیسز کو زیادہ دکھا رہی ہے یا پھر دیگر بیماریوں سے مرنے والوں کو اس فہرست میں ڈال رہی ہے۔

کورونا نے ہر حکومت کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور کورونا کے کیسز یا اموات پر عمران خان کی حکومت کو کچھ نہیں ملنا ہے۔ اسی طرح اس بات کا تو امکان ہے کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کورونا کی اموات یا کیسز کو چھپالے لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کوئی حکومت یا اسپتال اپنے ہاں کورونا کیسز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے۔

کیونکہ جہاں جتنی زیادہ اموات ہوتی ہیں، وہاں کی انتظامیہ پر اتنی زیادہ تنقید ہوتی ہے اور جہاں کم کیسز سامنے آتے ہیں یا اموات کم ہوتی ہیں تو اس حکومت یا ادارے کی تعریف ہوتی ہے۔تو پھر حکومت کیوں کر کیسز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا ایک وبا کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔

حکومت اسے سنجیدہ لے یا نہ لے، ہر شہری کو اسے سنجیدہ لینا چاہئے۔ ہر شہری کو زیادہ سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرکے اس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ہزاروں لوگوں ایسے ہیں جن میں یہ وائرس داخل ہو چکا ہے لیکن قوتِ مدافعت مضبوط ہونے کی وجہ سے ان پر کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا تاہم ان سے وہ ایسے لوگوں کو منتقل ہو سکتا ہے کہ جو ان کی تاب نہ لاسکیں۔

اس لئے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ سازشی نظریات سے جان چھڑا کر احتیاط سے کام لے۔ ماسک پہنے۔ ہاتھ دھوئے اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ٹیسٹ کروائے اور ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

ایف آئی اے نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کو طلب کر لیا

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے) نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کو طلب کر لیا۔

ذرائع کے مطابق شعیب اختر کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے طلب کیا ہے۔‏

ذرائع کا بتانا ہے کہ شعیب اختر کو 5 جون کو صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر کا کہنا ہے کہ مجھے ابھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے ایف آئی اے میں شعیب اختر کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔‏

تفضل رضوی نے مؤقف اختیار تھا کیا کہ شعیب اختر نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف غلط الفاظ استعمال کیے۔

درخواست میں تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ ‏ شعیب اختر نے ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا اور کرئیر کو داغدار کرنے کی کوشش کی۔ 

بینظیربھٹوکیخلاف ٹوئٹ کرنیوالی امریکی خاتون پر مقدمے کی درخواست

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹ کرنے والی امریکی خاتون کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج عابدہ سجاد نے سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل چوہدری زاہد آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں مقیم امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے ٹوئٹر پر بےنظیربھٹو کے خلاف توہین آمیز الفاظ تحریرکیے اور  بیہودہ تبصرہ کیا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق پولیس امریکی خاتون کےخلاف مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہے۔

اس حوالے سے عدالت نے پولیس حکام سے 8 جون تک جواب طلب کر لیاہے۔

پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان اسٹیل ملز کے 9100 ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کی اصولی منظوری دے دی۔

 اسلام آباد میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ای سی سی نے پاکستان اسٹیل ملز کے9100 ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کی اصولی منظوری دی اور فیصلہ کیا گیا کہ گولڈن ہینڈشیک دیے جانے والے ملازمین کو تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اسٹیل ملز کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کے منصوبے کی سپریم کورٹ سے منظوری لی جائے گی جب کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری اس سلسلے میں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔

ذرائع  نے مزید بتایا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے  اسٹیل ملز ملازمین کو نوکریوں پر برقرار رکھنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، جب کہ ریٹائر کیے جانے والے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کے لیے وزارت خزانہ 20ارب روپے فراہم کرے گی۔

دوران اجلاس ای سی سی نے مختلف محکموں کے لیے سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری بھی دی ۔

ای سی سی نے ویسٹرن بارڈر منیجمنٹ کے لیے 8 ارب 84 کروڑروپےکی تکنیکی گرانٹ کی منظوری دی ، یہ رقم سول آرمڈ فورسز کی استعداد کار بہتر بنانے پر خرچ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے لیے20 کروڑ روپے کی تکنیکی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔