Blogroll

header ads

وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے واقعات میں ملوث مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔۔۔.

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔۔۔

گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، تحقیق؟

یک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔

ملالہ یوسف زئی کا بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر انصاف کا مطالبہ

پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر آواز بلند کردی۔۔

کراچی میں آن لائن ٹرانسپورٹ سروس بھی چلانے کی اجازت دے دی گئی


کراچی: سندھ حکومت نے شہر  میں آن لائن ٹرانسپورٹ سروس بھی بحال کرنے کی اجازت دے دی۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ کے مطابق آن لائن ٹیکسی سروس میں صرف 2 افراد کوبیٹھنے کی اجازت ہوگی اور ہنگامی صورتحال میں ٹیکسی میں مزید ایک شخص کو ساتھ بٹھایاجاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن بس سروس کو سیٹ بائے سیٹ سروس چلانےکی اجازت ہوگی اور بس میں ائیرکنڈیشن چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیرٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ جو ٹرانسپورٹر اے سی چلائےگا وہ سیٹ پر ایک مسافر بٹھائےگا۔

واضح رہےکہ سندھ حکومت نے اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی ہے جس کے لیے ایس او پیز بھی طے کیے گئے ہیں۔

سندھ میں لاک ڈاؤن میں توسیع

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے صوبے میں لاک ڈاؤن 30 جون تک بڑھادیا ہے اور اس حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں حکومت سندھ نے فیصلہ کیاہے کہ تمام تعلیمی و تربیتی ادارے، شادی ہالز ،بزنس سینٹر اور ایکسپو ہالز بدستور بند رہیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کھیلوں کی تمام سرگرمیاں ان ڈور اور آؤٹ ڈور اسپورٹس سمیت جِم اور کلبس بھی بند رہیں گے۔

اس کے علاوہ ہر قسم کے ریسٹورنٹ اور کیفے بند رہیں گے تاہم خرید کر گھر لے جانے اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت ہوگی جب کہ سیاحوں کے لیے ہوٹلز بھی بند رہیں گے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق تمام تفریحی مقامات ، پارکس،سنیما اور تھیٹر بند رہیں گے جب کہ بیوٹی پارلرز کو بھی کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔

اعلامیے کے مطابق صوبے میں ہر قسم کے اجتماعات، جلوس، مزارات پر کسی بھی تقریب پر تا حکم ثانی پابندی ہوگی۔


ملک میں آج اب تک کورونا سے مزید 70 ہلاکتیں، 3490 نئے کیسز رپورٹ


ملک میں آج اب تک کورونا سے مزید 70 ہلاکتیں، 3490 نئے کیسز رپورٹ

آج اب تک سب سے زیادہ 43 ہلاکتیں پنجاب سے رپورٹ ہوئی ہیں

ملک میں آج اب تک کورونا سے مزید 70 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 1644 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 77837 تک پہنچ گئی ہے۔

اب تک سندھ میں 526 اور پنجاب میں کورونا سے 540 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 482 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں 49، اسلام آباد 30 ، گلگت بلتستان میں 11 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

آج کے کیسز کی صورت حال

آج بروز منگل ملک بھر سے اب تک کورونا کے مزید 3490 کیسز اور 70 ہلاکتیں سامنے آچکی ہیں جن میں پنجاب سے 1610 کیسز 43 ہلاکتیں، سندھ 1439 کیسز 23 ہلاکتیں، بلوچستان 121 کیسز 2 ہلاکتیں، اسلام آباد 304 کیسز 2 ہلاکتیں اور آزاد کشمیر سے 16 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پنجاب

آج پنجاب سے کورونا کے مزید 1610 کیسز اور 43 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 27850 اور ہلاکتیں 540 ہوگئی ہیں۔

صوبے میں اب تک کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 7116ہے۔

سندھ

سندھ سے آج کورونا کے مزید 1439 کیسز اور 23 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 31086 ہوگئی ہے جب کہ اموات 526 تک جا پہنچی ہیں۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ  آج 953 مزید مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 15538 ہوگئی ہے۔

بلوچستان

بلوچستان حکومت کی جانب سے پیر کو کورونا وائرس کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے تاہم آج بروز منگل جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مزید 121 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد صوبے میں تصدیق شدہ کورونا مریضوں کی تعداد 4514ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ صوبے میں 2 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 49 ہوگئی۔

بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 1565 ہوگئی ہے۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت سے آج کورونا وائرس کے مزید 304 کیسز اور 2 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔

پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 2893ہوگئی ہے جب کہ اموات 30 ہو چکی ہیں۔

اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 169 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر میں بھی آج کورونا کے مزید 16کیسز سامنے آئے ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔

حکومتی اعدادو شمار کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 271 ہوگئی ہے جب کہ علاقے میں اب تک وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 170 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

خیبرپختونخوا

خیبر پختونخوا میں پیر کو مزید 9 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 482 تک جا پہنچی ہے۔

صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 458 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 10485 ہوگئی۔

صوبے میں اب تک 2973 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں پیر کو مزید 27 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 738 ہوگئی ہے۔

محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق کورونا سے اب تک 11 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ صحت یاب مریضوں کی تعداد 527 ہے۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت

کراچی سمیت سندھ بھر میں اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت
کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اندرون شہر  ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی۔

جیونیوز کے مطابق  وزیرٹرانسپورٹ اویس شاہ اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد سندھ حکومت نے اندرون شہر ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دی۔

اویس شاہ نے مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے اندر کل سے ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ  گاڑیوں میں اضافی مسافر نہیں بٹھائے جائیں گے، تمام ٹرانسپورٹرز کو ایس او پیز پر عمل کرنا پڑے گا، اگر عمل نہ کیا گیا تو گاڑیاں بند کردی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ جس گاڑی میں ماسک اور  سینیٹائزر نہیں ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، منظور شدہ اڈوں سے گاڑیاں نکلیں گی اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، ٹرانسپورٹ سے متعلق آج رات تک نوٹیفکیشن جاری کردیں گے۔

وزیرٹرانسپورٹ نے ایس اوپیزپر عملدرآمدکے لیے مانیٹرنگ اور انسپیکشن ٹیم بھی تشکیل دی ہے جس میں ٹرانسپورٹ اور ریونیو کے افسران شامل ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ شہر میں آن لائن ٹرانسپورٹ سروس بحال کرنے کے حوالے سے بھی میٹنگ جاری ہے جس کا فیصلہ کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

سندھ میں لاک ڈاؤن میں توسیع

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے صوبے میں لاک ڈاؤن 30 جون تک بڑھادیا ہے اور اس حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں حکومت سندھ نے فیصلہ کیاہے کہ تمام تعلیمی و تربیتی ادارے، شادی ہالز ،بزنس سینٹر اور ایکسپو ہالز بدستور بند رہیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کھیلوں کی تمام سرگرمیاں ان ڈور اور آؤٹ ڈور اسپورٹس سمیت جِم اور کلبس بھی بند رہیں گے۔

اس کے علاوہ ہر قسم کے ریسٹورنٹ اور کیفے بند رہیں گے تاہم خرید کر گھر لے جانے اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت ہوگی جب کہ سیاحوں کے لیے ہوٹلز بھی بند رہیں گے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق تمام تفریحی مقامات ، پارکس،سنیما اور تھیٹر بند رہیں گے جب کہ بیوٹی پارلرز کو بھی کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔

اعلامیے کے مطابق صوبے میں ہر قسم کے اجتماعات، جلوس، مزارات پر کسی بھی تقریب پر تا حکم ثانی پابندی ہوگی۔

کورونا وائرس کرکٹ کے رنگ پھیکے کردے گا: وقار یونس

قومی کرکٹ ٹیم کو بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کرکٹ کے رنگ پھیکے کر دے گا اور کھلاڑیوں کو اب نئی روایات و قوانین کا عادی ہونا پڑے گا۔

نمائندہ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہر کھیل پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن سب سے زیادہ فرق کرکٹ پر پڑتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اس میں بال ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ جاتی ہے اور بولرز اسے اپنے تھوک اور  پسینے سے چمکاتے بھی ہیں۔ 

انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ جھٹکا تو کرکٹ کو لگے گا اس کے رنگ پھیکے پڑ جائیں گے، گراؤنڈ میں کامیابی کے بعد جشن منانا ہی کھیل کا اصل حسن ہے لیکن اب بولرز وکٹ لے کر ہائی فائیو نہیں کریں گے، سروں پر ہاتھ نہیں پھیریں گے یا بیٹسمین سینچری بنا کر ایک دوسرے کے گلے نہیں ملیں گے تو یہ ایک دھچکا ہی ہے۔

 وقار یونس کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہو گی کیونکہ ذرا سی لاپرواہی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، تھوک سے گیند کو نہ چمکانے کی تجویز ہے، اس پر عمل کرنا پڑے گا اور اس کے لیے بولروں کو عادی بھی ہونا پڑے گا لیکن سمجھتا ہوں کہ اس کا کوئی اور حل نکالنا ہو گا کیونکہ پہلے ہی بیٹسمینوں کو زیادہ فائدہ حاصل ہے، بیٹ اور بال میں توازن قائم رکھنا ہوگا۔

بولنگ کوچ نے مزید کہا کہ بال کو ڈس انفیکٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے تو اس سے بولروں کو نقصان اور بیٹسمینوں کو فائدہ ہو گا، بال جب سوئنگ نہیں ہو گا تو کھیل کا توازن ختم ہو جائے گا۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ جب لمبے وقفے کے بعد کھیل شروع ہو گا تو بولروں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوگا، بولروں کے لیے لمبے عرصے کے بعد میدان میں بولنگ کرنا آسان نہیں ہو گا، بولروں کی فٹنس کا بہت خیال رکھنا پڑے گا، ان پر میدان میں آتے ہی بوجھ ڈالنا خطرناک ثابت ہو گا ۔

یہاں انسان کو مرکر دکھانا پڑتا ہے کہ وہ بیمار ہے : ن لیگ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کسی کی بیماری پر سیاست کرنا برا عمل ہے،  یہاں انسان کو مرکر دکھانا پڑتا ہے کہ بیمار ہے۔

اپنے بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‎اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد2400 سے زائد ہوچکی جن کیلئے صرف 12 وینٹی لیٹرز کام کررہے ہیں اور اس میں سے ‎وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال پمز کے 9 وینٹی لیٹرز کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پمز میں 80 بستر کے آئسولیشن وارڈ میں دیگر آئی سی یو  سے یہ 9 وینٹی لیٹرز منتقل کیے گئے جن میں سے سرجیکل آئی سی یو سے 4، میڈیکل آئی سی یو کے 2 وینٹی لیٹرز کورونا وارڈ میں منتقل کیے گئے جبکہ کارڈیالوجی سرجری آئی سی یو کے 3 وینٹی لیٹرز بھی کورونا وارڈ میں منتقل کیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‎اسلام آباد کے دوسرے بڑے اسپتال پولی کلینک میں صرف 4 وینٹی لیٹرز ہیں اور کورونا مریضوں کیلئے صرف 10 بستروں کا آئسولیشن وارڈ ہے، ‎اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں کُل 90 بستر کے کورونا آئسولیشن وارڈ کے سوا اور کوئی انتظام نہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‎لواحقین مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرز لینے کی خاطر سفارشیں اور منتیں کرنے پر مجبور ہیں لہٰذا بتایا جائے جو وینٹی لیٹرز آئے تھے، وہ کہاں ہیں؟ اسلام آباد کے اسپتالوں کو کتنے ملے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ‎عمران خان پریس کانفرنس، پریزنٹیشن، کمپیوٹر، بیانات اور دعوؤں سےکورونا کا مقابلہ کررہے ہیں، ‎وفاقی وزیر برائے صحت عمران خان لاپتہ ہیں اور صحت کا نظام ٹھیکے پر چل رہا ہے، ‎حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے اور ‎کورونا کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر انتظامات اور اقدامات کے بجائے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی جارہی ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کورونا کے مریض سخت مشکل میں ہیں، خدا کیلئے جھوٹ بول کر عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلیں، یہاں اس وقت انسان کو مرکر دکھانا پڑتا ہے کہ میں بیمار ہوں، کسی کی بیماری پر سیاست کرنا برا عمل ہے۔

سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عدنان ملک میں اپنے کچھ کام نمٹا کر 4 سے 5 دن میں واپس لندن روانہ ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں کورونا وائرس کے باعث 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 2589 تک پہنچ چکی ہے۔

مخصوص شعبوں کے علاوہ سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھول دیا جائے گا، وزیراعظم

Imran Khan Says Pakistan Will Lift Lockdown Gradually as ...

ایک طرف کورونا سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف غربت ،بےروزگاری اورکمزور معیشت ہے۔

ایسے میں حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید نرمی سے متعلق فیصلہ کیا ہو اس پر غور کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں  چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سمیت تمام آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

'کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا'

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا، لاک ڈاؤن کورونا وائرس کا علاج نہیں بلکہ اس کا پھیلاؤ روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایس او پیز پر عمل کرکے اور سماجی فاصلہ اختیار کرکے بھی کورونا کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوام سے اپیل ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے اور پہلے کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں، ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا اور پھر ان علاقوں میں کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جتنی زیادہ لوگ احتیاط کریں گے، ایس او پیز پر عمل کریں گے اتنا بہتر ہم اس بحران سے نمٹ سکیں گے اور اپنے ڈاکٹرز اور صحت کے عملے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا، امیرملکوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا، پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کورونا وائرس پھیلےگا، ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بڑی تعداد میں وطن واپس لانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ این سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس اسکریننگ کی سہولت محدود تھی اور صوبوں کو اعتراض تھا کہ بڑی تعداد میں بیرون ملک سے شہریوں کو نہ لایا جائے اس لیے محدود تعداد میں پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے پروازوں کی تعداد بڑھائی جارہی ہے، ائیرپورٹس پر ان کا ٹیسٹ ہوگا اور پھر گھروں میں بھیج دیا جائے گا، نتیجہ مثبت آیا تو گھروں میں ہی قرنطینہ کرنا ہوگا۔

'پیسے والے لوگ ایس اوپیز پر عمل کررہے ہیں عام آدمی کا مختلف رویہ ہے'

عمران خان نے کہا کہ ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پیسے والے لوگ تو ایس اوپیز پر عمل کررہے ہیں لیکن عام آدمی کا کورونا کے حوالے سے مختلف رویہ ہے، اس حوالے سے ٹائیگرفورس کے رضاکار لوگوں میں شعور دیں گے کہ کس طرح کورونا کےساتھ رہنا ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ کھولنا چاہیے، کیوں کہ بعض علاقوں میں گرمیوں کے تین سے چار مہینے ہی سیاحت ہوتی ہے اور کاروبار چلتا ہے، اگر یہ وقت لاک ڈاؤن میں نکل گیا تو ان علاقوں میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔

ڈاکٹرز یہ نہ سوچیں کہ ہمیں ان کی فکر نہیں، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر کے ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے دن سے آپ لوگوں کا احساس ہے کہ کیسز بڑھے تو آپ پر بوجھ بڑھ جائے گا لیکن ہمارے 13 سے 15 کروڑ لوگ لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میڈیل کے شعبے سے وابستہ لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن نرم ہوا تو ان پر اچانک سے بوجھ بڑھ جائے گا لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ سب کا ہمیں احساس ہے اور ہم آپ کی ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ جلد اس حوالے سے ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشنز سے ملاقات بھی کریں گے۔

اسپتالوں میں گنجائش کے حوالے سے نیا پروگرام لارہے ہیں، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سن رہے ہیں کہ اسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے لہٰذا ہم یہ پروگرام لارہے ہیں جس کے تحت روزانہ یہ بتایا جائے گا کہ کس شہر میں کس اسپتال میں وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور کہاں نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہر شہر میں 50 فیصد سے زیادہ وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں، ساتھ ہی ہم اپنی استعداد میں بھی اضافہ کرتے جارہے ہیں۔

آخر میں وزیراعظم عمران خان نے عوام سے ایک بار پھر اپیل کی کہ جن ایس او پیز کے تحت سب کچھ کھولا جارہا ہے ان پر سختی سے عمل کریں، عوام عمل کریں گے تو اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا، اسی طریقے سے ہم اس وقت تک وائرس کا مقابلہ کریں گے جب تک اس کی ویکسین نہیں آتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ این سی ای اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ کل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 7مئی کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے جو فیصلہ کیا وہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو ذمہ داری لینا پڑے گی، اگر اس مشکل مرحلے سے نکلنا ہے تو حکومت ڈنڈے کے زور سے نہیں بولے گی، حکومت اور پولیس کیا کیا کام کرسکتی ہے؟ کیا ہم پکڑ کر لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں اور وہاں ٹیسٹ کریں، یہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتی۔

اس کے بعد عید کے موقع پر سپریم کورٹ نے بھی تمام کاروبار اور شاپنگ مالز پورے ہفتے کھولنے کا حکم جاری کردیا تھا جس کے بعد تمام کاروبار اور شاپنگ مالز شام 5 بجے تک کھولنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔لاک ڈاؤن موجودہ شرائط کے ساتھ 31 مئی تک جاری رہے گا تاہم اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا سے 1543 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 72460 تک پہنچ گئی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باجود عوام چھوٹے فائدے سے بھی محروم

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باجود عوام چھوٹے فائدے سے بھی محروم

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تو کمی کر دی گئی لیکن اس کے باوجود عوام روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے محروم  ہیں۔ 

یکم مارچ سے ملک میں پیٹرول و ڈیزل قیمت میں تقریباً 36 فیصد کمی ہو چکی ہے اور گزشتہ روز جاری کیے گئے اعلامیے کے  بعد  پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 7 روپے 6 پیسے کمی ہو کر نئی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

اس کے باوجود  ٹرانسپورٹ کرائے کم ہوئے، نہ آٹا دال چاول گوشت کی قیمتیں نیچے آئیں۔

اس سے متعلق سابق صدر کے سی سی آئی ہارون اگار نے کہا ہے کہ دالوں کی عالمی قیمت 30 فیصد تک کم ہوئی لیکن پاکستان میں کوئی کمی نہیں ہوئی، خشک دودھ کی قیمت میں 3400 سے 2300 ڈالر کمی کا بھی اثر نہیں آیا یہاں تک کہ  ٹرانسپورٹرز نے کرائے  بھی کم نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے دو مئی 2020 کو ملک کے تمام چیف سیکرٹریز کو حکم دیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے یا تو چیف سیکرٹریز نے وزیراعظم کا حکم سُنا نہیں، یا سمجھا نہیں۔

تاجر وں اور عوام کا کہناہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر اربوں روپے ٹیکسوں میں کمی کا اثر عوام کو منتقل نہیں ہو رہا۔

ادھر رہنما گڈز ٹرانسپورٹرز ملک شبر کہتے ہیں کم کاروبار اور مستقل لاگت کے سبب کرائے کم نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو ہو گئی لیکن ہمیں ڈرائیورز کو تنخواہیں بھی دینی ہیں لہذا موجودہ  صورت حال میں کرایوں میں کمی نہیں کی جا سکتی۔