Blogroll

header ads

وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے زیادتی کے واقعات میں ملوث مجرمان کی سخت سزاؤں پر مشتمل سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔۔۔.

حکومت کا چینی کمیشن رپورٹ کی سفارش پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔

کیا چکن میں بھی کورونا وائرس پایا جاتا ہے؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے چکن میں کورونا وائرس کی موجودگی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔۔۔

گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، تحقیق؟

یک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گنجے مردوں میں کورونا سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔

ملالہ یوسف زئی کا بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر انصاف کا مطالبہ

پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی امریکی سیاہ فام کی ہلاکت پر آواز بلند کردی۔۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت

کراچی سمیت سندھ بھر میں اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت
کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اندرون شہر  ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی۔

جیونیوز کے مطابق  وزیرٹرانسپورٹ اویس شاہ اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد سندھ حکومت نے اندرون شہر ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دی۔

اویس شاہ نے مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے اندر کل سے ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ  گاڑیوں میں اضافی مسافر نہیں بٹھائے جائیں گے، تمام ٹرانسپورٹرز کو ایس او پیز پر عمل کرنا پڑے گا، اگر عمل نہ کیا گیا تو گاڑیاں بند کردی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ جس گاڑی میں ماسک اور  سینیٹائزر نہیں ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، منظور شدہ اڈوں سے گاڑیاں نکلیں گی اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، ٹرانسپورٹ سے متعلق آج رات تک نوٹیفکیشن جاری کردیں گے۔

وزیرٹرانسپورٹ نے ایس اوپیزپر عملدرآمدکے لیے مانیٹرنگ اور انسپیکشن ٹیم بھی تشکیل دی ہے جس میں ٹرانسپورٹ اور ریونیو کے افسران شامل ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ شہر میں آن لائن ٹرانسپورٹ سروس بحال کرنے کے حوالے سے بھی میٹنگ جاری ہے جس کا فیصلہ کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

سندھ میں لاک ڈاؤن میں توسیع

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے صوبے میں لاک ڈاؤن 30 جون تک بڑھادیا ہے اور اس حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں حکومت سندھ نے فیصلہ کیاہے کہ تمام تعلیمی و تربیتی ادارے، شادی ہالز ،بزنس سینٹر اور ایکسپو ہالز بدستور بند رہیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کھیلوں کی تمام سرگرمیاں ان ڈور اور آؤٹ ڈور اسپورٹس سمیت جِم اور کلبس بھی بند رہیں گے۔

اس کے علاوہ ہر قسم کے ریسٹورنٹ اور کیفے بند رہیں گے تاہم خرید کر گھر لے جانے اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت ہوگی جب کہ سیاحوں کے لیے ہوٹلز بھی بند رہیں گے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق تمام تفریحی مقامات ، پارکس،سنیما اور تھیٹر بند رہیں گے جب کہ بیوٹی پارلرز کو بھی کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔

اعلامیے کے مطابق صوبے میں ہر قسم کے اجتماعات، جلوس، مزارات پر کسی بھی تقریب پر تا حکم ثانی پابندی ہوگی۔

کورونا وائرس کرکٹ کے رنگ پھیکے کردے گا: وقار یونس

قومی کرکٹ ٹیم کو بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کرکٹ کے رنگ پھیکے کر دے گا اور کھلاڑیوں کو اب نئی روایات و قوانین کا عادی ہونا پڑے گا۔

نمائندہ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہر کھیل پر اثرات مرتب ہوں گے لیکن سب سے زیادہ فرق کرکٹ پر پڑتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اس میں بال ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ جاتی ہے اور بولرز اسے اپنے تھوک اور  پسینے سے چمکاتے بھی ہیں۔ 

انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ جھٹکا تو کرکٹ کو لگے گا اس کے رنگ پھیکے پڑ جائیں گے، گراؤنڈ میں کامیابی کے بعد جشن منانا ہی کھیل کا اصل حسن ہے لیکن اب بولرز وکٹ لے کر ہائی فائیو نہیں کریں گے، سروں پر ہاتھ نہیں پھیریں گے یا بیٹسمین سینچری بنا کر ایک دوسرے کے گلے نہیں ملیں گے تو یہ ایک دھچکا ہی ہے۔

 وقار یونس کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہو گی کیونکہ ذرا سی لاپرواہی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، تھوک سے گیند کو نہ چمکانے کی تجویز ہے، اس پر عمل کرنا پڑے گا اور اس کے لیے بولروں کو عادی بھی ہونا پڑے گا لیکن سمجھتا ہوں کہ اس کا کوئی اور حل نکالنا ہو گا کیونکہ پہلے ہی بیٹسمینوں کو زیادہ فائدہ حاصل ہے، بیٹ اور بال میں توازن قائم رکھنا ہوگا۔

بولنگ کوچ نے مزید کہا کہ بال کو ڈس انفیکٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے تو اس سے بولروں کو نقصان اور بیٹسمینوں کو فائدہ ہو گا، بال جب سوئنگ نہیں ہو گا تو کھیل کا توازن ختم ہو جائے گا۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ جب لمبے وقفے کے بعد کھیل شروع ہو گا تو بولروں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوگا، بولروں کے لیے لمبے عرصے کے بعد میدان میں بولنگ کرنا آسان نہیں ہو گا، بولروں کی فٹنس کا بہت خیال رکھنا پڑے گا، ان پر میدان میں آتے ہی بوجھ ڈالنا خطرناک ثابت ہو گا ۔

یہاں انسان کو مرکر دکھانا پڑتا ہے کہ وہ بیمار ہے : ن لیگ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کسی کی بیماری پر سیاست کرنا برا عمل ہے،  یہاں انسان کو مرکر دکھانا پڑتا ہے کہ بیمار ہے۔

اپنے بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‎اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد2400 سے زائد ہوچکی جن کیلئے صرف 12 وینٹی لیٹرز کام کررہے ہیں اور اس میں سے ‎وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال پمز کے 9 وینٹی لیٹرز کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پمز میں 80 بستر کے آئسولیشن وارڈ میں دیگر آئی سی یو  سے یہ 9 وینٹی لیٹرز منتقل کیے گئے جن میں سے سرجیکل آئی سی یو سے 4، میڈیکل آئی سی یو کے 2 وینٹی لیٹرز کورونا وارڈ میں منتقل کیے گئے جبکہ کارڈیالوجی سرجری آئی سی یو کے 3 وینٹی لیٹرز بھی کورونا وارڈ میں منتقل کیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‎اسلام آباد کے دوسرے بڑے اسپتال پولی کلینک میں صرف 4 وینٹی لیٹرز ہیں اور کورونا مریضوں کیلئے صرف 10 بستروں کا آئسولیشن وارڈ ہے، ‎اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں کُل 90 بستر کے کورونا آئسولیشن وارڈ کے سوا اور کوئی انتظام نہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‎لواحقین مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرز لینے کی خاطر سفارشیں اور منتیں کرنے پر مجبور ہیں لہٰذا بتایا جائے جو وینٹی لیٹرز آئے تھے، وہ کہاں ہیں؟ اسلام آباد کے اسپتالوں کو کتنے ملے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ‎عمران خان پریس کانفرنس، پریزنٹیشن، کمپیوٹر، بیانات اور دعوؤں سےکورونا کا مقابلہ کررہے ہیں، ‎وفاقی وزیر برائے صحت عمران خان لاپتہ ہیں اور صحت کا نظام ٹھیکے پر چل رہا ہے، ‎حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول کر قوم کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے اور ‎کورونا کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر انتظامات اور اقدامات کے بجائے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی جارہی ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کورونا کے مریض سخت مشکل میں ہیں، خدا کیلئے جھوٹ بول کر عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلیں، یہاں اس وقت انسان کو مرکر دکھانا پڑتا ہے کہ میں بیمار ہوں، کسی کی بیماری پر سیاست کرنا برا عمل ہے۔

سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عدنان ملک میں اپنے کچھ کام نمٹا کر 4 سے 5 دن میں واپس لندن روانہ ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں کورونا وائرس کے باعث 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 2589 تک پہنچ چکی ہے۔

مخصوص شعبوں کے علاوہ سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھول دیا جائے گا، وزیراعظم

Imran Khan Says Pakistan Will Lift Lockdown Gradually as ...

ایک طرف کورونا سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف غربت ،بےروزگاری اورکمزور معیشت ہے۔

ایسے میں حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید نرمی سے متعلق فیصلہ کیا ہو اس پر غور کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں  چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سمیت تمام آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

'کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا'

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا، لاک ڈاؤن کورونا وائرس کا علاج نہیں بلکہ اس کا پھیلاؤ روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایس او پیز پر عمل کرکے اور سماجی فاصلہ اختیار کرکے بھی کورونا کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوام سے اپیل ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے اور پہلے کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں، ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا اور پھر ان علاقوں میں کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جتنی زیادہ لوگ احتیاط کریں گے، ایس او پیز پر عمل کریں گے اتنا بہتر ہم اس بحران سے نمٹ سکیں گے اور اپنے ڈاکٹرز اور صحت کے عملے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا، امیرملکوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا، پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کورونا وائرس پھیلےگا، ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بڑی تعداد میں وطن واپس لانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ این سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس اسکریننگ کی سہولت محدود تھی اور صوبوں کو اعتراض تھا کہ بڑی تعداد میں بیرون ملک سے شہریوں کو نہ لایا جائے اس لیے محدود تعداد میں پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے پروازوں کی تعداد بڑھائی جارہی ہے، ائیرپورٹس پر ان کا ٹیسٹ ہوگا اور پھر گھروں میں بھیج دیا جائے گا، نتیجہ مثبت آیا تو گھروں میں ہی قرنطینہ کرنا ہوگا۔

'پیسے والے لوگ ایس اوپیز پر عمل کررہے ہیں عام آدمی کا مختلف رویہ ہے'

عمران خان نے کہا کہ ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پیسے والے لوگ تو ایس اوپیز پر عمل کررہے ہیں لیکن عام آدمی کا کورونا کے حوالے سے مختلف رویہ ہے، اس حوالے سے ٹائیگرفورس کے رضاکار لوگوں میں شعور دیں گے کہ کس طرح کورونا کےساتھ رہنا ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ کھولنا چاہیے، کیوں کہ بعض علاقوں میں گرمیوں کے تین سے چار مہینے ہی سیاحت ہوتی ہے اور کاروبار چلتا ہے، اگر یہ وقت لاک ڈاؤن میں نکل گیا تو ان علاقوں میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔

ڈاکٹرز یہ نہ سوچیں کہ ہمیں ان کی فکر نہیں، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر کے ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے دن سے آپ لوگوں کا احساس ہے کہ کیسز بڑھے تو آپ پر بوجھ بڑھ جائے گا لیکن ہمارے 13 سے 15 کروڑ لوگ لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میڈیل کے شعبے سے وابستہ لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن نرم ہوا تو ان پر اچانک سے بوجھ بڑھ جائے گا لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ سب کا ہمیں احساس ہے اور ہم آپ کی ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ جلد اس حوالے سے ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشنز سے ملاقات بھی کریں گے۔

اسپتالوں میں گنجائش کے حوالے سے نیا پروگرام لارہے ہیں، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سن رہے ہیں کہ اسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے لہٰذا ہم یہ پروگرام لارہے ہیں جس کے تحت روزانہ یہ بتایا جائے گا کہ کس شہر میں کس اسپتال میں وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور کہاں نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہر شہر میں 50 فیصد سے زیادہ وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں، ساتھ ہی ہم اپنی استعداد میں بھی اضافہ کرتے جارہے ہیں۔

آخر میں وزیراعظم عمران خان نے عوام سے ایک بار پھر اپیل کی کہ جن ایس او پیز کے تحت سب کچھ کھولا جارہا ہے ان پر سختی سے عمل کریں، عوام عمل کریں گے تو اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا، اسی طریقے سے ہم اس وقت تک وائرس کا مقابلہ کریں گے جب تک اس کی ویکسین نہیں آتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ این سی ای اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ کل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 7مئی کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے جو فیصلہ کیا وہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو ذمہ داری لینا پڑے گی، اگر اس مشکل مرحلے سے نکلنا ہے تو حکومت ڈنڈے کے زور سے نہیں بولے گی، حکومت اور پولیس کیا کیا کام کرسکتی ہے؟ کیا ہم پکڑ کر لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں اور وہاں ٹیسٹ کریں، یہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتی۔

اس کے بعد عید کے موقع پر سپریم کورٹ نے بھی تمام کاروبار اور شاپنگ مالز پورے ہفتے کھولنے کا حکم جاری کردیا تھا جس کے بعد تمام کاروبار اور شاپنگ مالز شام 5 بجے تک کھولنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔لاک ڈاؤن موجودہ شرائط کے ساتھ 31 مئی تک جاری رہے گا تاہم اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا سے 1543 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 72460 تک پہنچ گئی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باجود عوام چھوٹے فائدے سے بھی محروم

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باجود عوام چھوٹے فائدے سے بھی محروم

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تو کمی کر دی گئی لیکن اس کے باوجود عوام روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے محروم  ہیں۔ 

یکم مارچ سے ملک میں پیٹرول و ڈیزل قیمت میں تقریباً 36 فیصد کمی ہو چکی ہے اور گزشتہ روز جاری کیے گئے اعلامیے کے  بعد  پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 7 روپے 6 پیسے کمی ہو کر نئی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

اس کے باوجود  ٹرانسپورٹ کرائے کم ہوئے، نہ آٹا دال چاول گوشت کی قیمتیں نیچے آئیں۔

اس سے متعلق سابق صدر کے سی سی آئی ہارون اگار نے کہا ہے کہ دالوں کی عالمی قیمت 30 فیصد تک کم ہوئی لیکن پاکستان میں کوئی کمی نہیں ہوئی، خشک دودھ کی قیمت میں 3400 سے 2300 ڈالر کمی کا بھی اثر نہیں آیا یہاں تک کہ  ٹرانسپورٹرز نے کرائے  بھی کم نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے دو مئی 2020 کو ملک کے تمام چیف سیکرٹریز کو حکم دیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے یا تو چیف سیکرٹریز نے وزیراعظم کا حکم سُنا نہیں، یا سمجھا نہیں۔

تاجر وں اور عوام کا کہناہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر اربوں روپے ٹیکسوں میں کمی کا اثر عوام کو منتقل نہیں ہو رہا۔

ادھر رہنما گڈز ٹرانسپورٹرز ملک شبر کہتے ہیں کم کاروبار اور مستقل لاگت کے سبب کرائے کم نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو ہو گئی لیکن ہمیں ڈرائیورز کو تنخواہیں بھی دینی ہیں لہذا موجودہ  صورت حال میں کرایوں میں کمی نہیں کی جا سکتی۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں بھی کمی کردی گئی

 آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون 2020 کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 2 روپے فی کلو کمی کی گئی ہے جس کے بعد 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 1298.31 روپے ہوگئی۔

چیئرمین ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کے مطابق مئی کیلئے 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 1322.90 روپے تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی تھی۔ 

فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کیوں کر دیا؟

امریکا میں پولیس کی حراست میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر فسادات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ احتجاج میں فیس بک سمیت کئی کمپنیاں بھی شریک ہو گئی ہیں۔

فیس بک نے سیاہ فام شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئی اپنا لوگو سیاہ کر دیا ہے جب کہ کمپنی کے بانی نے اس حوالے سے ایک طویل مضمون بھی تحریر کیا ہے۔

ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں گزشتہ دنوں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں گزشتہ 6 روز سے ہنگامے اور فسادات جاری ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امریکا میں سیاہ فام افراد زندگیوں کو بھی دیگر سفید فام شہریوں کی طرح محفوظ بنایا جائے اور انہیں برابر کے حقوق دیے جائیں۔

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنی طویل پوسٹ میں کہا کہ ’ہم سیاہ فارم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان تمام کے ساتھ بھی جو  انصاف کیلئے کام کر رہے ہیں جارج فلوئیڈ، بریونا ٹیلر،  احمود آربیری اور دیگر افراد کے نام کبھی فراموش نہیں کیے جائیں گے‘۔

مارک زکر برگ نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ  اس لڑائی میں مدد کیلئے  فیس بک پلیٹ فارم کو سیاہ فام لوگوں کی برابری اور تحفظ کیلئے  مزید اقدام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں  شکرگزار ہوں کہ ڈارنیلا فرازیر نے جارج فلوئیڈ کے قتل کی ویڈیو فیس بک پر پوسٹ کی تھی کیونکہ ہم سب کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں جارج فلوئیڈ کا نام جاننے کی ضرورت ہے تاہم یہ واضح ہوگیا ہے کہ فیس بک کو لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے مزید کام کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ہمارا نظام تعصب کو بڑھاوا نہیں دیتا‘۔

فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ ’انصاف کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو فنڈز کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہم ایک کروڑ ڈالر  کی امداد پیش کرتے ہیں‘۔

مارک زکر برگ نے مزید کہا کہ ’میں جانتا ہوں ایک کروڑ ڈالر سب ٹھیک نہیں کرسکتا، انصاف کے لیے طویل عرصے تک کوشش کرنے  کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’وہ اور امریکی اداکارہ پرسکیلا نے مل کر ذاتی طور پر ان علاقوں میں کام کیا ہے جہاں مجرموں کے لیے نظام انصاف میں سب سے زیادہ نسل پرستی پائی گئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اپنے اس کام کے حوالے سے زیادہ بات چیت نہیں کی ہے  لیکن اس میں چن زکر برگ کا کردار اہم رہا ہے جو سالوں سے  انصاف کیلئے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو ہر سال 4 کروڑ ڈالرز  دیتے ہیں تاکہ نسل پرستانہ تعصب اور نسل پرستی کا خاتمہ ہوسکے۔‘

فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کام کو آگے بڑھائیں اور یہ سامنے آگیا ہے کہ ابھی ہمیں بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘۔

لوگو سیاہ ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا پر#blacklivesmatter  بھی ٹرینڈ کر رہا ہے یعنی سیاہ فام کی زندگیاں بھی معنی رکھتی ہیں تاہم اس ہیش ٹیگ کے ذریعے  بھی جارج فلوئیڈ کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔